ایک خاتون امیدوار ووٹ مانگنے کسی گاؤں میں تشریف لے گئیں اس سلسلے میں انہوں نے اماں جی سے بات کی کہ میں آپ لوگو ں کی خدمت کروں گی،عام لوگوں سے مل جل کر رہوں گی ،غریب کے دکھ درد کا درماں کروں گی،وغیرہ۔۔۔۔
لیکن ماں جی نے سچ بتا دیا کہ۔ہمارا فلاں پارٹی سے وعدہ ہو چکا ہے ہم اسے ہی ووٹ دیں گے،
وہ مایوس ہو کر اٹھنے لگیں تو وہاں پڑی کسی نوکدار شے سے اس خاتون امیدوار کی چادر کا ایک کونہ پھٹ گیا۔۔۔ماں جی افسوس کرتے ہوۓ بولیں،
چہ بے چاری ،ووٹ بھی نہی ملا اور ہزار کی چادر بھی پھٹ گئی ۔۔یہ سنتے ہی وہ خاتون آپے میں نہ آرہیں اور غصہ سے بولیں ،دیکھو بی بی ووٹ نہ دو لیکن میری پچاس ہزار کہ چادر کو ایک ہزار کا نہ بولو ،،،
ماں جی پہلے تو بدلتے رویئے پہ حیران ہوئیں اور پھر اس بات پہ کہ پچاس ہزار کی چادر اوڑھ کر ،دس ہزار مہینہ کمانے والے غریبوں کا دکھ درد کیسے محسوس کیا جا سکتا ہے ۔۔۔۔ منال سندھو
0 Comments