کہانی

وہ کون تھی
مکمل کہانی 
___________________________________
یہ واقعہ سچا واقعہ ہے جو خود میرے ساتھ پیش آیا تھا ۔۔۔۔اس واقعے سے پہلے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔
میں ایک سیکورٹی گارڈ تھا  ۔۔۔۔ میرے اکثر ایک شہر سے دوسرے شہر میں تبادلے ہوتے رہتے تھے ۔۔۔ ایک بار میرا تبادلہ ایک ایسے علاقے میں ہوا جو بہت ہی گنجان علاقہ تھا ۔۔۔۔ وہاں آبادی نہ ہونے کے برابر تھی ہر طرف جنگلات اور پہاڑ تھے ۔۔۔۔۔ اور سب سے بڑا مسئلہ اس علاقے میں یہ تھا وہاں موبائل سنگنلز بھی کام نہیں کرتے تھے ۔۔۔۔۔
اس لئے اس علاقے میں تبادلے کے بعد تین مہینوں تک میرا اپنی بیوی بچوں سے رابطہ بالکل نہ ہو سکا ۔۔۔۔۔ اور تین مہینے بعد جب میں چھٹی لے کر گھر کی طرف جا رہا تھا تو میں نے سکون کا سانس لیا ۔۔۔۔ کہ کچھ دنوں کے لئے اس علاقے سے آزادی مل گئی ۔۔۔۔۔۔۔
میں اپنے علاقے پہنچ چکا تھا لیکن اس وقت کافی رات ہو چکی تھی اور کوئی رکشہ یا ٹیکسی مجھے نہ مل سکی تو میں نے سوچا اتنا لمبا سفر تو ہے نہیں ۔۔۔ کسی کتے پر بیٹھ کر گھر چلا جاتا ہوں ۔۔۔۔ یہی سوچ کر میں نے اپنا بیگ کاندھے پر رکھا وہاں سے گزرتے ایک کتے کو کانوں سے پکڑا اور اس پر بیٹھ گیا اور سفر شروع کر دیا ۔۔۔۔۔
اسٹیشن سے ہمارے گھر کے درمیان راستے میں ایک بہت بڑا قبرستان آتا تھا  ۔۔۔ اور میں جب اس قبرستان والے راستے کے پاس سے گزرا تو مجھے قبرستان کے درمیان ایک لڑکی نظر آئی  ۔۔۔۔ جو ایک قبر کے پاس بیٹھی تھی  ۔۔ اس لڑکی نے سیاہ چارد اوڑھ رکھی تھی اس لئے میں اس کا چہرہ نہ دیکھ سکا  ۔۔۔۔۔ میں نے گھڑی پر ٹائم دیکھا رات کے دو بجے رہ تھے ۔۔۔ میں نے سوچا اتنی رات کو کوئی لڑکی قبرستان میں کیا کر رہی ہے ۔۔ یہی سوچ کر میں کتے کو ہانکتا ہوا قبرستان کی طرف جانے لگا ۔۔۔ ہمارے علاقے کے قبرستان کے بارے میں آج تک کوئی ڈر خوف والی افواہ نہیں سنی اس لئے بے جھجک بے خوف میں اس قبرستان کی طرف جانے لگا ۔۔۔ اس قبر کی طرف جانے لگا جہاں وہ لڑکی کھڑی تھی ۔۔۔ میں تھوڑا مزید قریب ہوا تو میں نے دیکھا وہ لڑکی قبرستان میں جھاڑو دے رہی تھی ۔۔۔۔ میں اس کے پاس جانے لگا ۔۔۔ اور جب اس لڑکی کے پاس پہنچا تو میں نے اس لڑکی کو سلام کیا ۔۔۔ اس لڑکی نے میرے سلام کا جواب دیا اور بولی ۔۔۔۔۔
' کیسے ہیں آپ عبدالرحمن چچا ' 
میں اس لڑکی کی زبان سے اپنا نام سن کر حیران ہوا ۔۔۔۔ 
میں نے پوچھا ۔۔۔
' آپ میرا نام کیسے جانتی ہیں بیٹا ' 
اس لڑکی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔۔ 
' چچا آپ مجھے بھول گئے ۔۔۔۔ میں نواز الدین کی بیٹی ہوں رمشہ ۔۔۔۔۔ ' 
میں نے تھوڑا سا ذہن پر زور دیا ۔۔۔تو مجھے یاد آیا وہ لڑکی دراصل ہمارے پرانے محلے دار تھے جو چار سال پہلے ہمارا محلہ چھوڑ کر چلے گئے تھے ۔۔۔  بہت دور کی رشتے داری بھی تھی میری ان سے ۔۔۔۔اب تو وہ لڑکی کافی بڑی ہو چکی تھی میں نے جب اسے دیکھا تھا تب وہ میری بیٹی کے ساتھ اکثر ہمارے گھر کھیلنے آیا کرتی تھی ۔۔۔۔۔میں نے کہا 
۔
' ابو اور امی کیسے ہیں بیٹا ' 
رمشہ نے کہا ۔۔۔۔
' سب ٹھیک ہیں چچا جان آپ کیسے ہیں اور نادیہ کیسی ہے ' رمشہ نے میری بیٹی کا نام لیا تھا ۔۔۔۔میں نے کہا ۔
' وہ سب ٹھیک ہیں بیٹا لیکن تم اتنی رات کو قبرستان میں کیا کر رہی ہو ۔۔۔ ' میری بات سن کر رمشہ کافی اداس ہوئی اور بولی ۔۔۔۔
' بس اب کہاں جاوں گی چچا  ۔۔۔۔ ' 
میں نے سوچا شاید رمشہ گھر والوں سے ناراض ہو کر قبرستان آئی ہو ۔۔۔۔میں نے پوچھا بیٹا ۔۔۔۔
' کیا تمہاری گھر والوں سے کوئی ناراضگی ہوئی ہے بیٹا ۔۔۔۔ تمہارے ابو کو پتا ہے کہ تم اس وقت یہاں ہو ۔۔۔۔ ' 
میری بات سن کر رمشہ بات ٹالتے ہوئے بولی ۔۔۔
' آپ چھوڑیں چچا ۔۔۔ پانی پئیں گے آپ ۔۔۔۔ ' میں کافی تھکا ہوا تھا مجھے بہت پیاس لگی تھی ۔۔۔ میں نے کہا ہاں بیٹا پلا دو ۔۔۔۔۔رمشہ نے ایک چھوٹے گھڑے سے پانی نکالا ۔۔۔ اور پانی کا پیالا میری طرف بڑھایا ۔۔۔ رات کا وقت تھا میں نے پیالے کی طرف دیکھے بنا ہی پیالا ہونٹوں سے لگایا اور سارا پانی پی گیا ۔۔۔ لیکن پانی پینے کے بعد مجھے احساس ہوا جیسے پانی کا ذائقہ کافی عجیب تھا ۔۔۔۔ میں تھوڑی دیر وہیں کھڑا رہا پھر رمشہ سے بولا ۔۔۔۔۔
' آو بیٹا تمہیں گھر لے جاتا ہوں تمہاری والدین سے جو شکایات ہوں گی مل بیٹھ کر حل کریں گے  ۔۔۔۔ ' بیٹھو پیچھے کتے پر 
رمشہ نے بڑے دردناک انداز میں کہا ۔۔
' اب تو بہت دیر ہو گئی چچا آپ جائیں ۔۔۔۔ میں بعد میں آ جاوں گی ۔۔۔ ' 
میں نے کتے کے کان پکڑے اور رمشہ کو خدا حافظ کہتا گھر کی طرف روانہ ہوا ۔۔۔۔ 
میں ایک گھنٹے بعد گھر پہنچا ۔۔۔ رات کافی ہو چکی تھی ۔۔۔ میری بیوی دروازے پر مجھے اچانک دیکھ کر حیران تھی اور کافی خوش بھی ۔۔۔ باقی بچے سارے سو رہے تھے ۔۔۔۔ میری بیوی مجھے ایک کمرے میں لے گئی اور میرے لئے چائے بنا کر لے آئی ۔۔۔ کھانا میں راستہ میں کھا چکا تھا ۔۔۔ باتوں باتوں میں میں نے اپنی بیوی سے پوچھا ۔۔۔۔
' یہ نواز الدین بھائی آج کل کہاں ہوتے ہیں  ' میری بیوی اچانک نواز الدین کے ذکر پر حیران ہوتے ہوئے بولی ۔۔۔
' وہ دوسرے محلے  چلے گئے تھے پھر کوئی خاص رابطہ نہیں ہوا ۔۔۔ میں بس ایک بار ان کے گھر گئی تھی ۔۔۔ لیکن ان کا ایک بیٹا میرے خیال میں واپڈا میں نوکری کرتا ہے ۔۔۔۔' 
باتوں باتوں میں میں نے بیوی سے یہ جاننے کی کوشش کی ۔۔۔۔' 

' اور ان کی دونوں بیٹیاں کیسی ہیں اب ' میری بیوی نے جواب دیا ۔۔۔۔۔
' بڑی بیٹی سعدیہ کی تو شادی ہو گئی اور چھوٹی بیچاری ۔۔۔۔۔۔ ' 
میں نے کچھ تجسس سے اپنی بیوی کو دیکھا ۔۔۔۔میری بیوی نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
' چھوٹی بیٹی رمشہ نے دو مہینے پہلے خود کشی کر لی تھی ' 
میں نے صدمے سے اپنی بیوی کو دیکھا ۔۔۔ اور بے یقینی سے پوچھا ۔۔۔۔
' کیا کہہ رہی ہیں آپ رمشہ نے کب خودکشی کی ۔۔۔ آپ کو غلط فہمی ہو رہی ہوگی ۔۔ ان کی کسی دوسری بیٹی نے خودکشی ہوگی ۔۔۔۔ ' رمشہ کی خودکشی کی بات تو میں کبھی مان ہی نہیں سکتا تھا کیونکہ رمشہ کو خود میں نے تھوڑی دیر پہلے قبرستان میں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔ میری بیوی بولی ۔۔۔۔
' مجھے غلط فہمی کیسے ہو سکتی ہے جی ۔۔۔  میں خود رمشہ بیچاری کے جنازے پر نواز الدین  کے گھر گئی تھی ۔۔۔ ' یہ کہہ کر میری بیوی کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔
اور میں صدمے میں تھا رمشہ مر چکی ہے تو وہ کون تھی جسے میں نے قبرستان میں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
   ۔۔۔اور وہ پانی جو مجھے رمشہ نے پلایا تھا وہ کیا تھا جس کا ذائقہ میں آج تک نہیں بھول پایا ۔۔۔۔ اور اس کا کہا ہوا وہ جملہ  آج تک میعے دل پہ نقش ہے ۔۔۔۔۔
اب تو بہت دیر ہو گئی ' 
میں آج تک یہ جان نہ سکا ۔۔۔۔۔اگر رمشہ مر چکی تھی تو میں نے قبرستان میں کس کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔

کہانی کے بارے میں 
اپنی رائے ضرور دیں  مجھے یقین ہے آپ کو 
یہ کہانی ضرور پسند آئے گی ۔۔۔۔

Post a Comment

1 Comments