انسان جب چاند پر گیا تو بہت ساری سائنسی انسٹالیشنز وہاں اس پر نصب کی تاکہ کچھ مختلف سائنسی ڈیٹا چاند کی سطح سے حاصل کیا جاسکے۔ جبکہ دیگر انسٹالیشن کے ساتھ ساتھ کم از کم تین دیگر جھنڈے چاند پر انسانی مشن نےلگائے جو اپالو مشنز 12، 16 اور 17 کے دوران لگائے گئے ۔ یہ امریکی جھنڈے ابھی تک وہیں موجود کھڑے ہوئے ہیں۔ چاند پر پہلی بار اترنے کا جھنڈا برسوں میں نہیں دیکھا گیا، کیونکہ کوئی زمینی دوربین اسکو صحیح سے دیکھ نہیں سکی۔ NASAکے Lunar Reconnaissance Orbiter (LRO)کی ریکارڈ کردہ تصاویر کے مطابق لیکن یہ جھنڈے ابھی تک وہیں چاند کی سطح پر موجود گڑے ہوئے ہیں ۔ چونکہ چاند پر نصب عام سا نائلان سے بنا ہوا جھنڈا ایک سرکاری کیٹلا گ کے مطابق سے خریدا گیا تھا، اس لیے اسے چاند کی جگہ اور آؤٹر اسپیس کے سخت حالات کو سنبھالنے کے لیے ڈیزائن نہیں کیا گیا تھا۔اب کچھ ماہرین کا نظریہ ہے کہ سورج کی تیز ترین روشنی اور خلائی شعاعوں کی وجہ سے ان کچھ جھنڈوں کے رنگ سفید ہو گئے ہوں گے، یا یہ کہ جھنڈے کے تانے بانے اور فیبرک مکمل طور پر بکھر گئے ہوں گے۔
Articles 

Post a Comment

0 Comments